شمیم حنفی!
چشم نمناک میں
روشن ہوئے
یادوں کے نقوش
جن میں
فن کار طرح دار کی
اقلیم سخن
پیکر نقد و نظر،
فخر زبان اردو
... اور اس
آئنہ تمثال "شمیم حنفی"
جن کی تحریر کی
پہنائی میں
جس قدر غور کرو
ایک جہان معنیٰ
چشم آئینۂ حیرت میں
چمک اٹھتا ہے
خانۂ دل میں
مہک اٹھتے ہیں
معنیٰ کے گلاب
لب افسردہ پہ
کھل اٹھتے ہیں
نغموں کے پھول
وہ جو نغمہ ہے
مقفل سے لبوں میں
محبوس
رزم گاہ رہ ہستی میں
رجز خواں پیہم
ان نے چاہا تھا کہ
لفظوں میں چھپالیں خود کو
'خامشی لفظ کی دیوار گرا دیتی ہے'
دبیر احمد
No comments:
Post a Comment